@Mussarat25 December 2023 at 09:39
قائداعظم کو کراچی میں پرانی نمائش پر جس جگہ سپرد خاک کیا گیا وہ جگہ 144 ایکڑ رقبہ کا ایک ہموار قطعہ اراضی ہے اس رقبے پر ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ مہاجرین نے جھونپڑیاں ڈال رکھی تھیں۔ قائداعظم کے انتقال کے وقت کراچی انتظامیہ کے سربراہ
جناب ہاشم رضاصاحب تھے۔
لیاقت علی خان صاحب اور  ہاشم رضا صاحب نے لوگوں سے اپیل کی کہ یہ جگہ قائد اعظم کی ابدی جگہ کے لئے منتخب کی جا چکی ہے۔
یہاں کے عوام نے بہت جلد اپنے قائد کے لئے جگہ خالی کردی اور پھر قائد اعظم کو موجودہ جگہ پر سپرد خاک کیا گیا۔ ستمبر 1948ء سے فروری 1960ء تک بابائے قوم کا مزار شامیانے تلے رہا۔
مزار کے لیے کل چار نقشے تیار کیے گئے تھے ۔ایک نقشہ ترک آرکیٹیکٹ اے واصفی ایگلی، دوسرا آرکیٹیکٹ نواب زین یار جنگ اور تیسرا برطانوی آرکیٹیکٹ راگلن اسکوائر نے تیار کیا تھا۔ یہ تینوں نقشے رد کر دئیے گئے ۔بالآخر دسمبر 1959میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خواہش پر نقشے کی تیاری کا کام ایک آرکیٹیکٹ یحیےٰ مرچنٹ کو دیا گیا۔
مزار کے ڈیزائن کا بنیادی کام 28جنوری1960کو مکمل ہوگیا تھا۔ تعمیراتی کا م کا باقاعدہ آغاز 8فروری 1960کو ہوا 31جولائی 1960کو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے مزار کا سنگ بنیاد رکھا 31مئی 1966کو مزار کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوکے12جون 1970کو عمارت کو سنگ مرمر سے آراستہ کرنے کا کامم
پایہ تکمیل تک پہنچا۔
23دسمبر1970کو چین کے مسلمانوں کی جانب سے بطور تحفہ بھیجا گیا 81فٹ لمبا فانوس گنبد میں نصب کر دیاگیا مزار کی تعمیر پر ایک کروڑ 48لاکھ روپے کی لاگت آئی جو اس زمانے میں ایک خطیر رقم تھی۔ مزار کا کل رقبہ 116ایکڑ مرکزی رقبہ 61ایکڑ اطراف کے 55ایکڑ پر مشتمل ہے۔
۔ مزار کے مشرقی حصے میں ایک کمرے کے اندر پانچ قبریں ہیں۔
مزار قائد پر فاتحہ خوانی پر جانے والوں کی اکثریت اس کمرے تک نہیں پہنچ پاتی اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کمرے میں جانے پر اور وہاں موجود قبروں پر فاتحہ خوانی کرنے کی پابندی ہے بلکہ اس کی بڑی وجہ لوگوں کی ان قبروں کی وہاں موجودگی کے بارے میں لا علمی ہے۔
یہ قبریں معمولی افراد کی نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے سیاسی سفر میں شریک رفقائے کار کی ہیں۔ ان میں سب سے پرانی قبر لیاقت علی خان کی ہے،دوسری قبر سردار عبدالرب نشتر کی ہے ،تیسری قبر محترمہ فاطمہ جناح کی ہے، چوتھی قبر محمد نورالامین کی ہے اور پانچویں قبر بیگم رعنا لیاقت علی خان کی ہے۔
رعنا لیاقت علی خان کی قبر کے علاوہ باقی چار قبروں پر کتبے بنگالی زبان میں بھی درج ہیں۔
مزار قائد اپنی منفرد عمارت اور اچھوتے طرز تعمیر کی وجہ سے پاکستان کی بہترین عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ مزار کی تعمیر میں استعمال ہونے والا تمام سامان ملکی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ ہمارے ملکی معماروں اور ہنرمندوں کی شبانہ روز محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزار کی تعمیر میں قائد کی شخصیت،کردار، مرتبے اور اسلامی فن تعمیر کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔
مزار کے ڈیزائنر جناب یحی مرچنٹ نے ڈیزائن میں بہت ساری تشبیہات سے کام لیا ہے۔ وہ خود یہ فرماتے ہیں کہ ’’کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں قائد پیدا ہوئے، زندگی بھر مسلمانان ہند کی رہنمائی کے بعد انتقال بھی یہیں کیا،اس مزار کو ڈیزائن کرتے ہوئے میں نے عظیم رہنما کی ذاتی خصوصیات کو بھی پیش نظر رکھا۔‘‘
Mussarat Hussain's photo.
Maa baap ki shaan and 4 others9 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment