@Mussarat22 November 2023 at 00:05
تامل ناڈو انڈیا کا جنوبی صوبہ ہے.
اس میں اُدھنت تورائی گاوں کچھ سال پہلے جھونپڑیوں میں غریب دیہاتیوں کا ایک ٹھکانہ تھا
یہاں ایک پنچائت بھی تھی جو آس پاس کے گیارہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کی یہ نمائندہ پنچائیت تھی
سال 2001 میں رنگاسوامی شامنوگم اس پنچائت کا پنچ بنارنگاسوامی پڑھا لکھا پنچ تھا
اس نے پنچایت کو آپسی جھگڑوں اور زمینوں کی تقسیم سے نکال کر ان کو ایک ہوا چکی سے بجلی بنانے کا آئیڈیا دیا. سب کو راضی کیا اور ایک بینک سے اس سسٹم کیلئے قرض حاصل کیا. رنگاسوامی کو بجلی چاہئے تھی لیکن بقول اس کے کسی ایسے ایندھن سے بجلی بنانا جو ختمہو جاتا ہو بے وقوفی ہے
اس نے سورج اور ہوا میں سے ہوا کا انتخاب کیا. کیونکہ تامل ناڈو کا یہ علاقہ اس کیلئے موزوں تھا
قرض حاصل کر لیا گیا اور ونڈ مل چل گئی یہ گاوں کی ضرورت سے زیادہ بجلی بناتی تھی
اس لئے رنگاسوامی نے تامل الیکٹرک سپلائی کمپنی کو اضافی بجلی فروخت کرنی شروع کردی‏پنجائت کو سالانہ 23 لاکھ روپے کی آمدن شروع ہوگئی اس آمدنی نے نہ صرف قرض ختم کیا بلکہ ترقی کے راستے کھول دئے
پنچایت نے ایک مشترک بائیو گیس کا پلانٹ لگا کر بجلی کی کھپت مزید کم کردی
775 نئے گھر بنا کر جھونپڑیاں ختم کیں کئی بورنگ اور ٹینکیاں بنا کر پانی کا فلٹر پلانٹ تک لگا لیا‏یہ پڑوسی دیس میں تامل ناڈو کی ایک پنچائیت کی کہانی ہے. ہماری پنچائتیں جرگے " غیرت" کے فیصلوں کے علاوہ اور کسی چیز کیلئے مشہور نہیں ہیں
کیا ہمارے جرگے پنچائتیں اس معاملے میں کچھ غیرت کریں گی؟ یا یہاں کوئی رنگاسوامی شامنوگم نہیں ہے؟

حوالہ : انڈیا ٹو ڈے
Mussarat Hussain's photo.
Maa baap ki shaan and 4 others15 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment