@Mussarat
بے وفائی کے صلے میں با وفا پکڑے گئے
آپ سے کس نے کہا ہم بے خطا پکڑے گئے
صرف اک میں ہی نہیں پکڑا گیا اے ہم نشیں
تیرے کوچے میں ہزاروں پارسا پکڑے گئے
اب اسیرانِ وفا کا حال و مستقبل نہ پوچھ
بارہا چھوٹے قفس سے بارہا پکڑے گئے
یوں نگاہِ ناز نے پھینکی کمندِ التفات
اہلِ دل، اہلِ نظر، اہلِ وفا پکڑے گئے
عالمِ انسانیت میں حشرِ نو برپا ہوا
راہزن کے آڑ میں جب رہنما پکڑے گئے
دشمنوں کی دشمنی کا تذکرہ بے سود ہے
دشمنی کے راستے میں آشنا پکڑے گئے
میکش ناگپوری
2 3 views
Like
Comment
Share
Be the first to write comment