@Mussarat8 August 2023 at 08:19
بڑا بے وقوف
بادشاہ نے اعلان کیا کہ میری سلطنت میں جو سب سے بڑا ”بے وقوف“ ہو اُسے پیش کرو۔
بادشاہ بھی، بادشاہ ہی ہوتے ہیں۔۔۔ خیر حکم تھا، عمل ہوا۔۔۔
اور ”بے وقوف“ کے نام سے سینکڑوں لوگ پیش کردیئے گئے۔ بادشاہ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ 'ﻓﺎﺋﻨﻞ ﺭﺍﺅﻧﮉ' ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ 'کامیاب بے وقوف' ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎﯾﺎ ۔
بادشاہ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ قیمتی ہار ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ''بے وقوف'' ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔
ﻭﮦ ''بے وقوف'' اعزاز ﭘﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﻮﭦ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﮎ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ بے وقوف، بادشاہ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ۔ بادشاہ مرض الموت ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ بادشاہ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، بادشاہ ﻧﮯ اذنِ ملاقات بخش ﺩﯾﺎ۔ بے وقوف ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ، ''بادشاہ سلامت! ﺁﭖ ﻟﯿﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ؟"
بادشاہ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ''ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﭨﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ، ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ، ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﻟﯿﭩﻨﺎ بھی ﺿﺮﻭﺭﯼ ہے۔۔۔!!!''
بے وقوف ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ ''ﻭﺍپس ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﺎ؟؟؟؟ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ہے؟"
بادشاہ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ''ﮨﺎﮞ۔۔۔ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ہے۔''
بے وقوف ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ''ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﯾﻘﯿﻨﺎََ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﺤﻞ، ﺑﮍﮮ ﺑﺎﻏﯿﭽﮯ، ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ، ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﻣﺎﻥِ ﻋﯿﺶ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ہو ﮔﺎ۔!"
بادشاہ ﭼﯿﺦ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ۔ "بے وقوف" ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ بادشاہ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ بادشاہ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ہے ۔
ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ بادشاہ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮑﻠﯽ، ''ﻧﮩﯿﮟ ۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ جھونپڑی ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯽ۔

بے وقوف ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ؟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ہے۔۔۔ ﺁﭖ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ سمجھدار ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﺁﭘﮑﻮ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮨﻨﺎ ہے، ضرور انتظامی کیا ہوگا۔''
آہ۔۔۔!!!!
بادشاہ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ، ''ﺍﻓﺴﻮﺱ ۔۔۔ ﺻﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔

بے وقوف ﺍﭨﮭﺎ، ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮨﺎﺭ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ بادشاہ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ:
''ﺗﻮ ﭘﮭﺮ حضور ، ﺍﺱ ﮨﺎﺭ ﮐﮯ ﺣﻖ ﺩﺍﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ آپ ﮨﯿﮟ۔۔۔!!!"

سبق
انسان اس عارضی زندگی کے اونچے مقام پر پہنچنے کی ہر ممکن جدوجہد سے گریز نہیں کرتا، جو ہر ایک کیلئے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے مگر دائمی زندگی کا اعلٰی مقام جو بڑی آسانی سے نہ سہی مگر کوشش سے ہر کوئی پا سکتا ہے۔
تلخ حقیقت
اپنی شاپنگ میں ہزاروں لگ جاتے ہیں جب اللہ کے لئے دینا ہو تو ہم لوگ جیب میں سکے ڈھونڈتے ہیں۔
Mussarat Hussain's photo.
Maa baap ki shaan and 6 others21 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment