@Mussarat30 July 2023 at 02:17
امانتوں کی حفاظت اس طرح بھی کی جاتی ہے

سال ہے 1915۔ پہلی جنگ عظیم جاری ہے۔ سلطنت عثمانیہ کی فوج کا ایک سپاہی، فلسطین میں ڈیوٹی دے رہا ہے۔ اس کے پاس کچھ رقم ہے جو وہ امانتاً فلسطین کے العلول نامی ایک خاندان کے کسی شخص کے حوالے کرتا ہے، اس درخواست کے ساتھ کہ جب جنگ ختم ہو گی تو وہ واپس آ کر اپنی رقم لے لے گا۔ مگر فوجی کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔ نہ جانے جنگ میں کام آ گیا یا بعد میں جہانِ فانی سے رخصت ہوا۔

العلول خاندان کے امانتدار شخص نے وہ رقم ایک سو چھ برس تک لوہے کی ایک مضبوط تجوری میں سنبھال کر رکھی۔ رقم کی مالیت تیس ہزار امریکی ڈالر کے قریب بتائی گئی ہے۔

گزشتہ برس کے آخر میں، نابلوس میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں ترکی کے سفیر کو وہ رقم واپس کی گئی۔

تصویر میں نظر آنے والے صاحب، راغب ھیلمی العلول ہیں جن کے دادا کے بھائی کے پاس یہ امانت رکھوائی گئی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ امانت راغب ھیلمی کے سپرد ہوئی تو انہوں نے بھی امانت کی  پاسداری کا حق ادا کر دیا۔ جب وہ اس کی حفاظت  کرتے کرتے تھک چکے تو فیصلہ کیا کہ رقم ترک حکومت کے حوالے کر دی جائے کیوں کہ اب رقم کے مالک کی واپسی کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے تھے۔

اللہ کریم ہمیں بھی اسی طرح کی امانت داری اور دیانتداری نصیب فرمائے آمین ثم آمین
Mussarat Hussain's photo.
Chai Lover and 5 others11 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment