@Mussarat8 May at 13:03
مت کاٹ اس کے آسرے نادان ، ساری عمر
رکھتا ہے عشق سبز کو ، ویران ساری عمر

میری طلب کو سہل نہ سمجھے کوئی بھی شخص
گزری ہے ایک ہجر کے دوران ساری عمر

خالی زمین ہی نہیں گردش میں صبح و شام
روٹی کے گرد پھرتا ہے انسان ساری عمر

آنکھیں کھلیں تو خوشنما منظر نہیں رہے
ہم نے اٹھائے نیند کے نقصان ساری عمر

احساں برے دنوں میں نہ لینا کسی کا دوست
مشکل رہے گی چار دن ، احسان ساری عمر

کومل جوئیہ
Guftar Ali1 view
Comment
Share
Share
Be the first to write comment