@Mussarat31 March at 00:39
عالم چنا
گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق (1982 سے 1998 کے درمیان) پاکستان کے عالم چنا دنیا کے سب سے طویل القامت شخص تھے۔ عالم چنا کا قد 7 فٹ 7 انچ لمبا تھا۔ عالم چنا کا تعلق ایک غریب سندھی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے کسی قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی  ان کے گھرانے کے مرد روایتی طور پر سہون شریف کے مشہور صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر معمولی ملازمین تھے۔ 1978 میں سالانہ عرس کے دوران مزار کے بیرونی حصے میں لگائی گئی کسی ایک سرکس کے مالک نے عالم چنا کو سرکس میں ملازمت کی پیش کش کی۔ عالم چنا مزار پر ہفتے میں صرف 15 روپے کما رہے تھے! لہٰذا جب سرکس والوں نے انہیں ماہانہ 160 روپے کی پیش کش کی تو انہوں نے فوراً پیش کش قبول کرلی۔ سرکس نے عالم چنا کو مقامی اسٹار میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے سرکس کے ساتھ سندھ کے ہر کونے کا سفر کیا۔ چھوٹے قد کے دو جوکرز حسب معمول اپنا کرتب دکھاتے، جس دوران انہیں صرف ان کے درمیان اینٹری لینی ہوتی۔ وہ چلتے ہوئے اندر آتے اور ان جوکرز کو اوپر اٹھانا شروع کرتے تھے (جو خود کو یوں محسوس کرتے کہ جیسے وہ اس دیو ہیکل شخص سے بچ کر بھاگ رہے ہوں)۔ عالم چنا انہیں جھپٹ کر پکڑ لیتے اور اپنے کندھوں پر رکھ دیتے تھے۔ 1981 میں ایک شخص نے عالم چنا کو سرکس میں دیکھ کر گنیز بُک آف ورلڈ رکارڈز کے ایڈیٹرز کو خط لکھا۔ خط کے ساتھ انہوں نے سرکس میں عالم چنا کی کھینچی ہوئی کچھ تصاویر بھی بھیج دیں۔ کچھ مہینوں بعد گنیز سے کچھ افسران سندھ کے دار الخلافہ کراچی آئے اور وہاں سے وہ سہون پہچے جہاں انہوں نے عالم چنا سے ملاقات کی اور ان کا قد ناپا۔ اس وقت ان کا قد 7 فٹ 7 انچ ناپا گیا تھا۔ برطانیہ واپسی پر انہوں نے عالم چنا کا نام دنیا کے سب سے طویل القامت انسان کے طور پر درج کر لیا۔ یہ خبر سب سے پہلے مقامی سندھی اخباروں میں شائع ہوئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں اردو اور انگریزی اخباروں نے اس خبر کو شائع کیا اور پھر آخر کار سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) پر رات 9 بجے کے اردو خبر نامے میں اس خبر کو نشر کیا گیا۔ راتوں رات 'عالم چنا' ایک مشہور نام بن گیا تھا۔ وہ جہاں جاتے، میڈیا نمائندگان اور تماشائی ان کا پیچھا کرتے آجاتے۔ انہیں جس انداز میں شہرت مل رہی تھی وہ اس سے پریشان ہو گئے تھے۔ عالم چنا نے سرکس چھوڑ دی اور پھر سے مزار پر معمولی ملازمت شروع کر دی۔ 1985 میں جرنل ضیاء الحق نے  عالم چنا کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش کا اظہار کیا۔23 مارچ کو جرنل ضیاء الحق کے ہاتھوں یومِ پاکستان کی پریڈ تقریب کے دوران ایک خصوصی ایوارڈ وصول کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ 21 مارچ کو انہیں کراچی لے جایا گیا اور پھر ہوائی سفر کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تقسیم ایوارڈ کی تقریب کے دوران ہزاروں افراد کے سامنے انہوں نے ضیا سے ایوارڈ وصول کیا اور ایک فوٹوگرافر نے پریس کے لیے اس موقعے کو قید کر لیا۔ پاکستان کے تمام نمایاں اخبارات (اور برطانیہ کے ڈیلی ٹیلی گراف نے بھی) نے ضیا کے ہاتھوں عالم چنا کو ایوارڈ دیتے وقت کی تصویر شائع کی جسے وصول کرنے کے لیے انہیں نمایاں طور پر جھکنا پڑا تھا۔ وہی تصویر کافی سندھی اخبارات میں بھی شائع ہوئی، لیکن ایک الگ کیپشن کے ساتھ۔ بجائے یہ لکھنے کے کہ 'دنیا کے سب سے طویل القامت شخص عالم چنا صدر ضیاء الحق کے ہاتھوں خصوصی ایوارڈ وصول کر رہے ہیں'، زیادہ تر سندھی اخبارات نے (سندھی میں) لکھا کہ 'سندھ اب بھی ضیاء کو چھوٹا سمجھتا ہے۔ انہوں نے 1989 میں شادی کی ۔1990ءسےھی ان کی صحت خراب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ وہ اکثر مایوس اور تنگ ہو جاتے تھے اور یہی شکایت کرتے کہ وہ اپنی عام سی زندگی میں ہی بہت خوش تھے۔ وہ اکثر اپنے سرکس کے دنوں کے بارے میں باتیں کرتے اور انہوں نے لعل شھباز قلندر کے مزار پر بھی عقیدتاّ ملازمت جاری رکھی ۔ باوجود اس کے کہ انہیں دنیا بھر سے نقد انعامات اور تحائف ملنا شروع ہو گئے تھے 1998 میں ان کے گردے ناکارہ ہونا شروع ہو گئے۔ حکومت نے انہیں علاج کے سلسلے میں اپنے خرچے پر امریکا بھیجنے کا فیصلہ کیا، مگر امریکی ہسپتال میں کوما میں چلے گئے اور جلد ہی وفات پا گئے۔ اس وقت ان کی عمر 45 برس تھی۔ وہ سہون شریف  میں مدفون ہیں۔
Copied
Mussarat Hussain's photo.
Chai Lover2 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment