@Mussarat16 July 2023 at 10:49
عمران خان نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے؟
آج میں تاریخ کی اک مستند کتاب پڑھ رہا تھا کہ حیرت کا اک ایسا باب کُھلا کہ بہت سارے چھپے رستم سامنے آگئے

کتاب پڑھتے پڑھتے یہ بات سامنے آئی کہ جب بابائے قوم کی میت قبرستان لے جانے کے لئے اٹھائی گٸی تو پوری انکی کابینہ کے وزراء  اور فوجی قیادت ہمراہ تھے - - -  لیکن جب قائد اعظم کا نماز جنازہ پڑھایا جانے لگا تو پوری کابینہ اور فوجی قیادت تو پہلی صف میں کھڑی ملی مگر ملک کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں اور دو جرنیل خاموشی سے صف سے نکلے اور دائیں جانب  پہ جاکر کھڑے ہوگئے اور نماز جنازہ میں شرکت نہ کی جب نماز جنازہ مکمل ہوگئی تو وہ تینوں ایک بار پھر سب میں گھل مل گئے - - -

صحافیوں نے سر ظفر اللہ خاں سے پوچھا :-
" سر آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھی" - -
ظفراللہ خاں نے جواب دیا :-
" ہم  "احمدی مسلمان " احمدیوں ( قادیانیوں) کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے" - - -

اس جواب پہ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا میں نے اپنے اک دوست سے رابطہ کیا جسکے چچا قادیانی تھے تو انھوں نے مثبت مین سر ہلایا کہ واقعی اس کے چچا ، چچا کے بیٹے معاشرتی طور پہ ہر فوتیدگی پہ آتے ہیں اظہار ہمدردی کرتے ہیں ، سب کچھ کرتے ہیں مگر کسی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے ، بہت قریبی رشتہ ہو جیسے میرے دوست کے دادا اور تایا ابو وفات پائے تو جنازہ گاہ تک ساتھ گئے مگر نماز جنازہ میں شرکت نہ کی دائیں جانب کھڑے ہو گئے نماز جنازہ کے بعد پھر آملے - -

تب میرے دماغ میں جھماکے ہونے لگے - - - قارٸین آپ کو یاد ہوگا کہ جب عمران خاٸن اقتدار میں آئے تو ان کے سب سے قریبی ساتھی اور جگری دوست " انعام الحق" کا کراچی میں انتقال ہوگیا تو سارے سرکاری انتظامات مکمل ہونے کے باوجود عمران خاٸن انکا نماز جنازہ پڑھنے نہیں گئے تھے

پھر قارٸین کو یاد ہوگا کہ محسن پاکستان ، ایٹمی پاکستان کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلام آباد میں وفات ہوئی تو عمران خاٸین نے اسلام آباد میں موجود ہوتے ہوئے بھی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی - -

پھر قارٸین اکرام کو یاد ہوگا کہ ملک کی عظیم بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت ، عظیم فلاحی تنظیم " ایدھی" کے بانی اور روح رواں " مولانا عبدالستار ایدھی" کی وفات بھی عمران خاٸین کے دور حکومت میں ہی ہوئی تھی ساری دنیا نے حتیٰ کہ آرمی چیف تک نے نماز جنازہ میں شرکت کی تھی مگر عمران خاٸین نے شرکت نہ کی تھی

عمران  کے فیملی کزن اور بہنوٸی حفیظ اللہ  نیازی نے کچھ دن پہلے اک انٹرویو میں بتایا کہ عمران نے تو اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی تھی البتہ اپنے نانا  کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی - - - اور قارٸین کو یہ علم تو ہو گا کہ عمران کے نانا کا شمار مرزا قادیانی کے 5 نمبر پہ مرزا کے  خاص صحابی کے طور پہ ہوتا تھا - -

تازہ بتازہ معروف صحافی ، عمران  کا راٸیٹ ہینڈ ساتھی ارشد شریف کینیا مین قتل ہوگیا جس کے قتل پہ عمران نے وہ شور مچایا ،. وہ شور مچایا کہ عمرانی فالورز کے نزدیک وہ صحافی پیر کا درجہ اختیار کر گیا ، اس کے قتل کو عمران نے پی ٹی آئی کا قتل قرار دیا ، ارشد شریف کو اپنا بھاٸی قرار دیا اس کے گھر جاکر اس کے گھر کے اک اک فرد سے تعزیت کی مگر جب  ارشد شریف کا جسد خاکی پاکستان آیا تو شہر میں موجود ہوتے ہوئے بھی نماز جنازہ مین شرکت نہ کی -

حفیظ اللہ نیازی کا یہ کہنا بھی اب سچ نظر آتا ہے کہ چیلنج ہے کہ عمران کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ، وزیر اعظم بننے کے دوران اور وزیر اعظم کے عہدے سے اترنے کے بعد آج تک کوٸی ایک خاندان میں، سیاسی قائدین ، کسی گہرے تعلق والے کی فوتیدگی پہ اس کے نماز جنازہ کے بارے بتا دیا جائے کہ عمران نے شرکت کی ہو جو چاہو انعام میں دونگا - - - تازہ بتازہ ظلے شاہ پی ٹی آئی کے کارکن کی وفات پہ بھی عمران خاٸین نماز جنازہ کو نہین گئے - - -

اس کے بعد ذرا سا عمران خاٸین کو فوکس کیا تو عمران کسی بھی موقع پہ اللہ کے نبی (ص) کا نام درست طور پہ کبھی نہیں لیتا آپ کو یاد ہوگا کہ وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہوئے تین بار ان کو لفط  " خاتم  النبیین" دھرا کر کہا گیا انھوں نے اس کو درست نہ پڑھا تو بالاخر اسے چھوڑکے حلف مکمل کیا گیا اور یہ بات بھی کنفرم کی ہے میں نے کہ قادیانی لفظ  " خاتم النبیین" کبھی اداء نہیں کرتے مجبوری بن جائے تو عمران خاٸین کی طرح زبان گھما کر کچھ کا کچھ کہہ جاتے ہیں - - -

پھر آپ کو یاد ہوگا کہ اک بار عمران  نے تقریر کرتے ہوئے دنیا میں آئے انبیاء اکرام کی تعدار  140000  کہہ دی ، ان کو ٹوک کے تصحیح کی گئی مگر وہ انبیاء کی تعداد 140000 پہ ہی ڈٹے رہے جب اس بارے ہم نے تحقیق کی تو انکشاف ہوا کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہیے کہ  انبیاء اکرام کی تعداد  140000 ہے - - -

دوستو سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر ذرا سوچو کہ کیا یہ اتفاقات محض اتفاقیہ ہیں یا یہ ہم کو اس سمت اشارہ کر رہے ہین جب 1994 میں حکیم سعید اور ڈاکٹر اسرار احمد نے قوم کو متنبہ کیا تھا کہ یہودی اک کھلاڑی کو تیار کر  رہے ہیں اور یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہیے کہ قادیانیوں کا سب سے بڑا سرپرست اسرائیل ہے - - -

ذرا نہیں پورا سوچئے
کیا حقائق ہمیں مطمئن نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟🤔

اللّه پاک مسلمانو کو سمجھ عطاء فرماے آمین
کاپی
Hina Collection and 5 others12 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment