@Mussarat6 February at 04:27
سب لوگ سمجھنے پہ بھی قادر نہیں ہوتے
کچھ ہم بھی خدوخال سے ظاہر نہیں ہوتے

ہم پاؤں بھی پھیلائیں تو محتاط بہت ہیں
چادر سے یا اوقات سے باہر نہیں ہوتے

ہنستے ھوئے چہرے سے جو پہچان لے دکھ کو
سب لوگ ہی ماں جیسے تو ماہر نہیں ہوتے

سو بار خفا ہوتے ہیں ہم اپنے خدا سے
منکر کبھی رحمت سے یا کافر نہیں ہوتے

اول تو میسر ہی نہیں ہوتے کسی کو
خوش بختی سے مل جائیں تو وافر نہیں ہوتے

دو چار ادھر سے لیے دو چار ادھر سے
ایسے تو سخن مانگ کے شاعر نہیں ہوتے
عادل  لکھنوی
Sidra tul Muntaha and 4 others3 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment