@Mussarat3 February at 10:50
ایک سوچ ‼️
کہانی پڑھنے کے بعد غور ضرور کریں۔۔۔۔

سونا سوا دو لاکھ روپے تولہ ہونے کی وجہ سے عام عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔
اس وجہ سے مڈل کلاسیوں کی شادیاں بھی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں، جنہوں نے سونے کے زیورات کا دکھاوا ضرور کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
زیادہ تر وہ سونا بعد میں سالہا سال سنبھال کر رکھ لیا جاتا یے اور فنکشنز پر بھی پہنا نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔
مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس کے لوگ اتنے سادہ لوح ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اور لوگ کیا کہیں گے کے پابند ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

لڑکا پوری عمر موٹر سائیکل چلاتا ہے لیکن بارات والے دن کئی عدد نئی کاریں کرائے پر لیکر دلہن کے گھر پہنچ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
اور شادی سے اگلے دن پھر وہ دلہا اور دلہن موٹر سائیکل پر ہی سواری کرتے پائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
شادی پر دونوں گھر اتنی تو فضول خرچی کر ہی لیتے ہیں کہ اگر بچت کی جائے تو چھوٹی موٹی گاڑی آسانی سے آ سکتی ہے۔۔۔۔۔۔

جہیز میں لڑکی کو درجنوں بستر، کمبل، رضائیاں، تکیے دیے جاتے جو کسی پیٹی یا الماری میں دس بیس سال بھی بند رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اس سے بھی  بڑھ کر یہ ہے کہ لڑکی کے لیے دونوں طرف سے کئی عدد سوٹ اور جوتے صرف اس لیے خریدے جاتے کہ آنے والے مہمانوں کو دکھائے جائیں۔۔۔۔۔۔
جو تقریباً سال چھ ماہ بعد ہی آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔

یہ لوگ پوری عمر دال روٹی کھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ایک ایک روپے کی بچت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
لیکن شادی پر صرف دکھاوے کے لیے مٹن، چکن، فش، بریانی، بیف اور پتا نہیں کیا کیا انتظام کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ مہندی، بارات، ولیمہ سب کے لیے۔۔۔۔۔۔
لڑکے کی شادی پر پندرہ بیس لاکھ لگا دیں گے لیکن سادگی سے شادی کر کے باقی پیسے اس لڑکے کو نہیں دیں گے کہ وہ اپنا کوئی کام کاج کر لے۔۔۔۔۔۔
دلہن کا ایک فنکشن کا میک اپ پچیس تیس ہزار سے شروع ہو کر کئی لاکھوں تک جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
جو کہ پانچ سات گھنٹے کے لیے ایک جعلی تصویر پیش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
اس سارے معاملات میں لڑکے لڑکی والے دونوں برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
عام طور پر سب سے بڑا کردار لڑکی کے والدین  کا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
جنہوں نے اپنی ناک اونچی رکھنا ہوتی ہے۔۔۔۔!!!

اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔۔۔۔۔۔

آسان اور سادہ نکاح اور شادی کو فروغ دینا ہوگا۔۔۔۔۔!!!

منقول
Chai Lover and 3 others6 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment