@Mussarat3 weeks ago
ھم نے طلاق لے کے عورتوں کو پچھتاتے ھوئے دیکھا ھے۔
جو عورتیں شوہر کے گھر اس لیے چھوڑ آئیں کہ ہماری عزت نہیں ھے انہیں زمانے کی ٹھوکریں کھاتے دیکھا ہے۔

جو سسرال میں رہنا اس لیے گوارا نہیں کرتیں کی ان سے کام نہیں ہوتا ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں وہ جب تن تنہا اولاد کی ذمہ داری اٹھاتی ھیں تو ان کے چودہ طبق روشن ھوتے دیکھے ہیں۔

جنہوں نے شوہر کو سبق سکھانے کے لیے عدالتوں سے طلاقیں لی ان کو رجوع کے لیے تڑپتے ھوئے دیکھا ہے۔

بلقیس ایدھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ”دنیا کے جوتے کھانے سے بہتر ھے ایک آدمی کے جوتے کھالو“۔

یہ جو فیمنسٹ یا لبرل خواتین، عورتوں کو طلاق دلوا کے حقوق دلوانے نکلتی ہیں ان کی تقلید کرنے سے پہلے انکی ذاتی زندگی میں بھی ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے کہ وہ گھر کیسے بسا رہی ہیں یا طلاق کے بعد کتنی آئیڈیل لائف گزار رہی ہیں۔

میں طلاق کے خلاف نہیں ہوں کہ اس کا حق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے مگر یہ آخری آپشن ھونا چاہیے اس کو پہلا آپشن مت سمجھیے۔ حالات ناگزیر ہیں تب بھی طلاق کا فیصلہ کرنے سے پہلے علیحدہ ہو جائیں چھ ماہ الگ رہیں پھر فیصلہ کریں۔

گھر ٹوٹنے نہیں چاہیئں..
اولادیں برباد ہو جاتی ہے..
انا کو قربان کرنا پڑے..کر دیجیے..
مگر اولاد کو تحفظ دیجیے...
طلاق مسائل کا حل نہیں ہے. بلکہ مسائل کی ابتداء ہے ۔
میاں بیوی کے درمیان جو مسائل ہیں انہیں حل کریں..
مسائل حل کرنا سیکھیں..
زک زیک سیکھیں..
جھوٹی انا اور جھوٹی عزت میں گھر مت اجاڑیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ مار مت کھائیں.. ظلم برداشت مت کریں.. آواز اٹھائیں مگر طلاق آخری آپشن ہے۔ کم از کم چھ ماہ علیحدہ رھنے کے بعد فیصلہ کریں۔“...

🙁🤲🤲 دعا ہے اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے آمین ۔🤲😔😔

منقول
Sidra tul Muntaha and 4 others7 views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
Be the first to write comment