@Mussarat1 June 2023 at 01:23
فنگر پرنٹس__________

انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے۔۔۔۔۔

یہ لکیریں ایک ریڈیایی لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے۔۔۔۔۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں۔۔۔۔۔

گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی شکل اور ان کے ایک ایک ڈیزائن سے باخبر ہے۔۔۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔
کہ!
ہے کوئی مجھ جیسا ڈیزائنر ؟؟؟
ہے کوئی مجھ جیسا کاریگر ؟؟؟
ہے کوئی مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟؟
ہے کوئی مجھ جیسا مصور ؟؟؟
ہے کوئی مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟؟

حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہو جاتی ہے کہ اگر جلنے زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔

پس ہم پر کھلتا ہے کہ پوری دنیا بھی جمع ہو کر انسانی انگلی پر کسی وجوہات کی بنیاد پر مٹ جانے والی ایک فنگر پرنٹ نہیں بنا سکتی۔۔۔۔۔

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔
وہی خدا ہے وہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے۔

ہم کتنے بدگمانی میں پھنسے ہوئے ہیں کہ اللّٰه ربّ العزت کو چھوڑ کر طاغوت کی عبادت کرتے ہیں 😥
Mussarat Hussain's photo.
Hina Collection and 3 others11 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment