@Mussarat15 January at 07:27
چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس  قاضی فائزعیسیٰ "اچھا"جج کیسےبن سکتے ہیں۔۔؟

بّلے کا نشان بیلٹ پیپر پر نہیں ہوگا یعنی تحریک انصاف بحیثیت سیاسی جماعت 8 فروری کے عام انتخابات سے باہر ہوگئی۔اب پارٹی کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے یعنی کسی کا انتخابی نشان کرسی ہوگا،تو کسی کا پھول،کوئی ہارمونیم کے نشان پر الیکشن لڑے گا تو کسی کو جہاز،فاختہ اور مور جیسے کئی دوسرے انتخابی نشانات پر ووٹ مانگنے پڑیں گے۔اتنے بڑے بڑے وکیلوں کے ہوتے ہوئے بھی تحریک انصاف اپنا کیس سپریم کورٹ میں بھی ہار گئی۔انٹرا پارٹی الیکشن بھی قانونی تقاضوں کے مطابق نہ کروا سکی اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو مطمئن کرسکی اور اوپر سے بلّے کے نشان کے جانے کی صورت میں بلّے باز کا نشان بھی نہ لے سکی۔یعنی تحریک انصاف کا پلان اے بھی فیل ہو گیا اور پلان بی بھی ناکام،نہ بلّا رہا نہ بلّے باز۔اس صورتحال تک تحریک انصاف کو پہنچانے کا کون کون ذمہ دار ہے؟اس کیلئے عمران خان سمیت تحریک انصاف کی قیادت کو دوسروں کی طرف انگلیاں اُٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے گریبانوں میں بھی ضرور جھانکنا چاہیئے کہ پارٹی اور اس کے رہنمائوں سے کہاں کہاں غلطیاں بلکہ بلنڈرز ہوئے۔بلے کے نشان کا بیلٹ پیپر پر نہ ہونے نے بلاشبہ عام انتخابات کو متنازع بنا دیا ہے اور اس بات کا افسوس اپنی جگہ کہ ایک بڑی سیاسی جماعت بحیثیت سیاسی جماعت عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی لیکن سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونیوالے مقدمہ میں دو دن کی طویل بحث کو سننے کے بعد کسی کو اس بات کا شک نہیں کہ تحریک انصاف کا کیس بہت کمزور تھا۔اس کے وکیلوں کے پاس نہ ثبوت تھے اور نہ مضبوط قانونی نکات۔اب چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بُرا بھلا کہنے سے اور اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے اُنکی ٹرولنگ کرنے سے تحریک انصاف والے اپنے آپ کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن کیا یہ درست نہیں کہ بار بار موقع دیئے جانے کے باوجود انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروایا اور جب کروایا تو وہ محض کاغذی کارروائی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔قانونی طور پر تو تحریک انصاف کے وکیلوں کے پاس کچھ نہ تھا اسلئے سارا زور کیس کے سیاسی پہلو پر ڈالا گیا اور بار بار یہ کہا گیا کہ اتنی بڑی سیاسی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم کرنے کا سیاست،جمہوریت اور سسٹم کو بہت نقصان ہوگا۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ تحریک انصاف انتخابی نشان سے محروم ہوئی تو اُس کے امیدوار پھر بھی الیکشن لڑیں گے لیکن آزاد حیثیت سے۔سپریم کورٹ کے تین ججوں نے متفقہ طور پر جو فیصلہ دیا وہ قانونی نوعیت کا تھا اور اُس میں سیاسی پہلو کو نظر انداز کیا گیا۔جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس قاضی فائزعیسیٰ جیسے بہادر اور انصاف پسند جج پر الزام لگایا جارہا ہے کہ اُنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر یہ فیصلہ دیا۔اگر سیاسی فیصلہ کیا جاتا اور قانونی نکات کو نظر انداز کیا جاتا تو پھر کہا جاتا کہ یہ تو سیاسی فیصلہ ہے جس میں قانون اور آئین سے ایک لاڈلے کی خاطر پہلو تہی کی گئی۔اگر تحریک انصاف آج سے دو سال پہلے،ایک سال پہلے یا چھ ماہ پہلے ہی الیکشن کمیشن کے بار بار کہنے پر انٹرا پارٹی الیکشن کروا دیتی تو یہ مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا۔یاد رہے کہ یہ مسئلہ الیکشن کمیشن اور تحریک انصاف کے درمیان عمران خان کی حکومت کے دور سے چل رہا ہے اور یہ وہ دور تھا جب خان صاحب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کھڑی تھی۔کہا جارہا ہے کہ عام انتخابات سے ایک ماہ قبل سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیوں دیا؟ذرا سوچیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟کیا سپریم کورٹ نے کوئی سوموٹو لیا؟تحریک انصاف کے کسی مخالف کی درخواست کو سنا؟یا تحریک انصاف کی اپنی اپیل پر فیصلہ دیا جو دو تین دن پہلے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اور یہ درخواست کی گئی کہ اس اپیل کو فوری سنا جائے جس کیلئے عدالت کو ہفتہ کے روز بھی پورا دن بیٹھنا پڑا۔اس فیصلے کی ٹائمنگ کا تعلق تحریک انصاف کے اپنے فیصلوں اور اپنے اقدامات سے تھا۔تحریک انصاف کو یقیناً فوج پر 9 مئی کے حملے اور اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی مول لینے پر کئی مشکلات کا سامنا ہے لیکن یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے تحریک انصاف کی لڑائی چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لڑنی چاہیئے،انہیں دو تین جرنیلوں کے خلاف فیصلے دینے چاہیئے اور عمران خان کو جیل سے نکال کر اقتدار کی کرسی میں بٹھا دینا چاہیئے تو پھر ہی وہ اچھے جج کہلوانے کے اہل ہونگے۔چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ماضی گواہ ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہ فیصلہ کرتے ہیں نہ اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے خوفزدہ ہوتے ہیں بلکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فیصلے بھی دیئے اور اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ حمایت سے عمران خان کی حکومت میں اپنے خلاف دائر کئے گئے ریفرنس اور اپنی اہلیہ سمیت ہراساں کیے جانے کی تمام کوششوں کا بڑی جرات مندی سے مقابلہ کیا اور تمام الزامات کو کھلی عدالت میں غلط ثابت کیا۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان بننے کے بعد گزشتہ چند مہینوں میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے متعلق فیض آباد دھرنا کیس سمیت مشکل مقدمات(جن کو سابق چیف جسٹسز نے فائلوں میں دبا دیا تھا) کو کھول کر کھلی عدالت میں سنا اور ایکشن لیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے فیصلے پر اعتراض ہو سکتا ہے،ان کا فیصلہ غلط ہوسکتا ہے لیکن کیا ایسا جج تحریک انصاف اور اُس کی سوشل میڈیا کی ٹرولنگ سے خوفزدہ ہو کر اُن کیلئے "اچھا" جج بن سکتا ہے۔
(انصارعباسی،روزنامہ جنگ 15جنوری)
Mussarat Hussain's photo.
Hina Collection and 4 others56 views
Comment
Share
Share
Be the first to write comment