Ali Gulfam
2 Followers 
2 Following 
Follow
@gulfamDecember 202325 PostsOnline:a day ago
@gulfama week ago
ٹائی ٹینک جہاز اور فلمی دنیا
فلموں کی بھی ایک عجیب ہی دُنیا ہے. مشہور زمانہ فلم ٹائی ٹینک جس جہاز کے ڈوبنے کی کہانی پر بنی تھی اس جہاز کی قیمت 7.5 ملین امریکی ڈالر تھی. جبکہ اس پر بنی فلم کی لاگت 2 سو ملین ڈالر تھی. اس فلم کی کہانی نے 2 بلین ڈالر سے زیادہ کمائی کی. شمالی بحر اوقیانوس کی تہہ میں پڑا ٹائی ٹینک کا ڈھانچہ بھی سوچ رہا ہوگا میں ڈوب کر اتنا قیمتی کیسے ہوگیا.؟

خوشی کے تعاقب میں بے گھر کرس گارڈنر نے بھی اُس وقت سوچا نہ ہوگا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بقا کی جنگ لڑ رہا تھا کہ ایک دن اس دور کی اس کی کہانی The Pursuit of Happiness دُنیا میں 307 ملین ڈالر کما کر دے گی.  اس فلم میں ول سمتھ اور اس کے بیٹے نے کرس گارڈنر اور اس کے بیٹے کا کردار ادا کیا تھا. فلم کے آخری منظر میں ول سمتھ پلٹ کر جس شخص کو دیکھتا ہے وہ کرس گارڈنر تھا.

بحر اوقیانوس کی تہہ میں ہزاروں جہازوں کے ڈھانچے پڑے ہیں. ٹائی ٹینک بھی ایک ڈوبا ہوا بوسیدہ ڈھانچہ ہی ہوتا، لیکن کچھ لوگوں نے اس کی کہانی کو گمنام نہ ہونے دیا. ٹائی ٹینک ڈوب گیا لیکن اس کا سفر اور ذکر آج بھی ہو رہا ہے. خوشی کے تعاقب میں کرس گارڈنر ہی نہیں تھا آج کا ہر انسان ہے. لیکن آخر یہ خوشی ہے کیا.؟

ہم انسانوں کی سوچ بھی فلمی دُنیا کی طرح عجیب ہی ہے. مثلاً آپ کسی سے بھی پوچھ لیں دُنیا کی بلند ترین چوٹی کونسی ہے.؟ بچہ بچہ جواب دے گا "ماونٹ ایورسٹ" نیپال میں واقع ماونٹ ایورسٹ سطح سمندر سے 8850 میٹر بلند واقعی دُنیا کی بلند ترین چوٹی ہے. لیکن اگر آپ کا حساب سطح سمندر سے ہو. وہ جو ہمیں نظر آتا ہے.

لیکن اگر آپ زمین کی سطح سے بلندی ناپیں تو ماونٹ ایورسٹ نہیں پھر جزائر ہوائی کے پاس سمندر میں واقع آتش فشاں چوٹی ماونو کیا 9754 میٹر کے ساتھ دُنیا کی بلند ترین چوٹی ہے.  لیکن اس کی بلندی سمندر میں چھپی ہوئی ہے. عام آنکھ کو اس کی ہیبت ویسے متاثر نہیں کرتی جیسے ماونٹ ایورسٹ یا k2  کرتے ہیں. خوشی بھی ایک ایسا ہی احساس ہے. کچھ لوگ اسے اندر ڈھونڈتے ہیں کچھ باہر دوسروں سے ناپ تول میں اپنی خوشیوں کا حساب کرتے ہیں.

تو خوشی پھر کیا ہے. یہ ہماری ذات کے اندر کا وہ آتش فشاں ہوتا ہے جو ہار نہیں مانتا. جو ٹوٹ جائے ڈوب جائے یا بھلے وقت کی ٹھوکروں میں ریزہ ریزہ ہو جائے یہ پھر خود کو جوڑ کر چل پڑتا ہے. یہ چلنا بند نہیں کرتا. ہماری یہی ضد خوشی ہے. یہ ضد خود سے ہو تو خوشی کا تعاقب بن جاتی ہے دوسروں سے ناپ تول پر لگ جائے تو گمنام ہو جاتی ہے. کیونکہ دوسرے بہت زیادہ ہیں اور ہر ایک کا حساب الگ الگ ہے.
See more
Ahmed Raza
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfama week ago
Love this unapologetic behavior!

لائل پور ❤️ 😍
لیل پور میں جو رہ کے چلا گیا وہ ساری عمر لیل پوریا ہی رہا۔ اس کی زبان انداز سوچ پر لیل پور کی  سٹیمپ لگ جاتی ہے۔اپنے  لَیل پور والوں کیلئے سب جائز ہے۔

یہاں جھنگ بازار "چنگ بیار" ہی ہے اور غلام آباد "گلاما باد" ہے۔ "سمنا باد" ہے۔ "پپل کلونی" ہے۔ "زری یونیورسٹی" ہے۔ "علَیڈ  ہسپتال" ہے۔ یہاں کے باسیوں کو معنی سے غرض نہی ہوتی اس لیئے  اپنے ٹاون کا نام مدینہ ٹاون بھی رکھ لیتے ہیں۔ یہاں سے ایک موٹروے "لَور" اور دوسری "سلاما باد" جاتی ہے۔ ملتان والی البتہ ملتان ہی جاتی ہے۔ اس شہر کے آس پاس کوئی سمندر نہی مگر ایک سمندری ضرور ہے۔ یہاں کار کے سپئیر پارٹس کبھی جینوئین نہی ملتے۔ ہمیشہ "جئینئن" ملتے ہیں۔ اکلوتا شہر ہے جہاں موٹر سائیکل کو بھی گڈی کہا جاتا ہے

شہیر کے بیچوں بیچ ایک نہر گزرتی ہے جسے "کنال" کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ والی سڑک "کنال روڈ" کہلاتی ہے۔ جب نیا نیا اس شہر میں آیا تھا تب یہاں کتابوں اور چمڑے کی دکانیں ساتھ ساتھ ہوتی تھیں۔ اب چمڑے والی دکانیں ڈیکوریشن کا سامان بیچنے والی بن گئی ہیں۔ بچوں کے سکول کی فیس کو بچوں کی "سکول فیسز" کہنا یہاں کی ہی ایجاد ہے۔  زوالوجی والے تو اس پر قہقہہ لگاتے ہوں گے۔ یہاں چکن میرینیٹ نہی کیا جاتا  بلکہ چکن "میلینیٹ" کیا جاتا۔ اس شہر میں عمر گزارنے والا بندہ یورپ امریکہ عرب میں بھی چلا جائے تو وہاں کے لینڈ لائین ٹیلی فون کو "پی ٹی سی ایل" ہی کہتا۔ دنیا کے کسے بھی شہر میں جا کے وہاں کی سب سے خوبصورت عمارت بھی دیکھ لے مگر جب تک وہاں کوئی "گھنٹہ گھر" نہ نظر آئے اس شہر کو بس ایویں ہی سمجھتا ہے۔ کسی بھی مال سے جا کر باقی سب کچھ خرید لیتا مگر کپڑے خریدتے دل کو ہَول پڑتا کہ نہی یہ "لیل پور" جا کے ہی صیحح۔۔

اسے رنگ و نور سے عشق تھا وہ لہور جا کے مڑا نہی
میں کہ ایک سادہ مزاج تھا مجھے لیل پور نے جکڑ لیا
See more
Ahmed Raza1 View
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam21 February at 13:15
Ahmed Raza and 2 others4 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam20 February at 13:44
نوحہ فلسطین
0:000:21
Ahmed Raza3 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam20 February at 12:16
فلسطین کا نوحہ
0:000:12
Ahmed Raza and 2 others3 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam19 February at 07:37
0:000:11
Be the first to react.3 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam19 February at 06:56
برا وقت کسی سے پوچھ کر نہیں آتا
0:000:17
Sofia Akram3 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam12 February at 03:05
زندگی کی تلاش میں ہم موت کے کتنا قریب آ گئے
0:000:06
Sofia Akram and 2 others10 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam12 February at 00:03
پانچ دس پیسے، چار آنے تھے
وہ زمانے بھی کیا زمانے تھے

جیب میں ہوں گے ایک دن سو بھی
خواب بچپن کے کیا سہانے تھے

آمدن کے لئے قلم کاپی
کارگر ، مستند بہانے تھے

یار، بوتل، کباب اور قلفی
کبھی قارون کے خزانے تھے

عید کا انتظار رہتا تھا
سکے جیبوں میں کھنکھنانے تھے

کتنی سستی تھیں وہ سبھی خوشیاں
کیا حسیں وقت وہ پرانے تھے

آج پیسہ ہے عقل اور دانش
کل تلک لوگ ہی سیانے تھے

کل میسر تھے مفت جو منظر
اب وہ لاکھوں میں بھی نہ آنے تھے

ہم نے بچپن کو ساتھ یوں رکھّا
عمرِ دوراں کے غم بھلانے تھے

خوب پچھلی صدی تھی وہ ابرک
جو تعلق تھے سولہ آنے تھے
See more
Sidra tul Muntaha and 1 other2 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@gulfam11 February at 09:09
یہ فلک یہ ماہ و انجم، یہ زمین یہ زمانہ
ترے حسن کی حکایت، مرے عشق کا فسانہ

یہ مرا پیام کہنا تو صبا مودبانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ گزر گیا ہے پیارے تجھے دیکھے اک زمانہ

جگرمرادآبادی
Ahmed Raza and 2 others6 Views
Comment
Be the first to write comment
Share
Share