Mussarat Hussain
13 Followers 
3 Following 
Follow
@MussaratBio:#ThearFebruary 2022766 PostsOnline:7 hours ago
@Mussarata week ago
0:000:22
Be the first to react.1 View
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarata week ago
0:000:18
Be the first to react.
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarata week ago
0:001:16
Be the first to react.1 View
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarata week ago
0:000:27
Be the first to react.
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarat2 weeks ago
جنگ یمامہ۔ مسیلمہ کذاب کا فتنہ
مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی ان میں 600 صحابہ کرام ایسے بھی تھے جوکامل حافظ قرآن تھے.
اور اس جنگ میں 27000 کفار وصل جہنم ہوئے .
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"

چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوںبمیں آخری خطبہ دیا:

والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت"  کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"

اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا
*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔
کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کہتے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔

قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے
پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ
اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو.

اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو
🤲 آخر میں میری آپ تمام دوستوں سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی  اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو
آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کیجئے.
See more
Guftar Ali1 View
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarat2 weeks ago
مت کاٹ اس کے آسرے نادان ، ساری عمر
رکھتا ہے عشق سبز کو ، ویران ساری عمر

میری طلب کو سہل نہ سمجھے کوئی بھی شخص
گزری ہے ایک ہجر کے دوران ساری عمر

خالی زمین ہی نہیں گردش میں صبح و شام
روٹی کے گرد پھرتا ہے انسان ساری عمر

آنکھیں کھلیں تو خوشنما منظر نہیں رہے
ہم نے اٹھائے نیند کے نقصان ساری عمر

احساں برے دنوں میں نہ لینا کسی کا دوست
مشکل رہے گی چار دن ، احسان ساری عمر

کومل جوئیہ
See more
Guftar Ali1 View
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarat2 weeks ago
مقابلہ اس دل ناتواں کیا خوب کیا
0:000:11
Guftar Ali
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarat2 weeks ago
کیا آپ نے بچپن میں یہ کھیلا ہے
0:001:30
Guftar Ali1 View
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarat2 weeks ago
9 مئی پاکستانی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب اک دجالی فتنہ پرور شخص نے وطن عزیز کے خلاف سازش کی ۔
مگر الحمدللہ ناکام ہوئی
Guftar Ali
Comment
Be the first to write comment
Share
Share
@Mussarat2 weeks ago

دو ہزار سال پہلے کا ذکر ہے ، مشہور یونانی فلسفی افلاطون نے ایتھنز میں اکیڈمی کھولی جہاں وہ امراوشرفا کے لڑکوں کو تعلیم دینے لگا۔ جب اکیڈمی میں خاصی چہل پہل ہوگئی، تو اس نے روزمرہ کام کاج کی خاطر ایک اٹھارہ سالہ لڑکا بطور خدمت گار رکھ لیا۔ وہ لڑکا مشروبات اور کھانے کا اہتمام وغیرہ کرتا اور دیگر چھوٹے موٹے کام کرتا تھا۔ یہ اکیڈمی صرف امرا کے لیے مخصوص تھی۔ چنانچہ لڑکا اپنا کام کرچکتا، تو باہر چلا جاتا۔ اْدھر جماعت کے دروازے بند کیے جاتے اور افلاطون پھر طلبہ کو تعلیم دینے لگتا۔ وہ لڑکا بھی دروازے کے قریب بیٹھا اندر ہونے والی باتیں سنتا رہتا۔
دو ماہ بعد افلاطون کی جماعت کانصاب ختم ہوگیا۔ اب حسب روایت ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں شہر کے سبھی عالم فاضل شرکت کرتے تھے۔ طلبہ کے والدین بھی شریک ہوتے۔تقریب میں جماعت کے ہرطالب علم کا امتحان بھی ہوتا، وہ یوں کہ ہرایک کو کسی موضوع پر سیرحاصل گفتگو کرنا پڑتی۔ چنانچہ اس تقریب کا موضوع علم کی اہمیت تھا۔ افلاطون کی جماعت سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم ڈائس پہ آتے، موضوع کے متعلق کچھ جملے کہتے اور پھر لوٹ جاتے۔کوئی طالب علم بھی علم کی اہمیت پر متاثر کن تقریر نہ کرسکا۔ یہ دیکھ کر افلاطون بڑا پریشان ہوا۔ اچانک خدمت گار لڑکا اس کے پاس  پہنچا اور گویا ہوا کیا میں تقریر کرسکتا ہوں؟ افلاطون نے حیرت اور بے پروائی کی ملی جلی کیفیت میں اسے دیکھا اور پھر لڑکے کی درخواست مسترد کردی۔ اس نے کہا میں نے تمہیں درس نہیں دیا، پھرتم کیسے اظہار خیال کرسکتے ہو؟لڑکے نے تب اسے بتایا کہ وہ پچھلے دو ماہ سے دروازے پر بیٹھا اس کا
درس سن رہا ہے۔ تب تک افلاطون اپنے تمام شاگردوں سے مایوس ہوگیا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے نوجوان کو حاضرین کے سامنے پیش کیا لڑکے کو تقریر کرنے کا اشارہ کیا۔ لڑکا بولنا شروع ہوا، تو آدھے گھنٹے تک علم کی فضلیت پر بولتا رہا۔ اس کی قوت گویائی اور بے پناہ علم دیکھ کر سارا مجمع دنگ رہ گیا تقریر بڑی مدلل اور متاثر کن تھی۔ جب لڑکا تقریر مکمل کرچکا، تو افلاطون پھر ڈائس پر آیا اور حاضرین کو مخاطب کرکے بولا آپ جان چکے کہ میں نے پوری محنت سے طلبہ کو تعلیم دی اور دوران تدریس کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی۔ میرے شاگردوں ہی میں سیکھنے کے جوہر کی کمی تھی، اسی لیے وہ مجھ سے  علم پانہ سکے۔ جبکہ یہ (لڑکا) علم کی چاہ رکھتا تھا، لہٰذا وہ سب کچھ پانے میں کامیاب رہا جو میں اپنے شاگردوں کو سکھانا چاہتا تھا۔ آج دنیا اس لڑکے کو ارسطو کے نام سے جانتی ہے جس نے فلسفے سے لے کر سائنس تک میں اپنے نظریات سے دیرپا اثرات چھوڑے۔ اس کا شمار نوع انسانی کے عظیم فلسفیوں اور دانش وروں میں ہوتا ہے-
See more
Guftar Ali
Comment
Be the first to write comment
Share
Share